اورنگ آباد :12/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر کے اورنگ آباد شہر میں جمعہ کو دو فریق میں پرتشدد جھڑ پ کے بعد دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے۔ اورنگ آباد کے پولیس کمشنر نے بتایا کہ اس واقعہ میں دو افراد ہلاک اور 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
آزاد ذرائع کے مطابق اس یک طرفہ تشدد میں ایک مخصوص طبقہ مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوا ہے جس کو میڈیا سے مخفی ر کھا جارہا ہے۔واضح ہو کہ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ جمعہ کی رات10:30 بجے پانی کا کنکشن ٹوٹنے کی وجہ سے تنازعہ شروع ہوا۔اس کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان مزاحمت ہوئی ا ور پھر اس نے فرقہ وارانہ تشدد کی صورت اختیار کر گیا جس کے تحت مسلمانوں کے گھروں میں جبراً زرخرید غنڈوں نے بلا امیتاز عمر بوڑھے جوان، عورت اوربچے کی بے رحمانہ پٹائی کرکے دہشت گردی کو ا نجام دیا۔
اورنگ آباد کے مرکز میں شاہ گنج نام کا علاقہ ہے۔ اس کے آس پاس موتی کارنجہ، گاندھی نگر، راجہ بازار اور نواب پورہ جیسے چھوٹے بڑے محلے ہیں جن میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقہ کے لوگ رہتے ہیں۔ دونوں ہی فرقہ کے لوگ روزی روٹی کے لئے چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں۔یہاں کے کچھ مقامی لیڈر ہیں جن کا اس محلوں پر کافی اثر ہے۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں کمیونٹی کے رہنما شامل ہیں۔پولیس بھی ان لیڈروں کے باہمی جھگڑے ختم کرنے کے لئے مفاہمت کی کوشش کر چکی ہے۔گزشتہ کل کچھ مسلمانوں کے گھروں کے پانی کے کنکشن کاٹ دیے گئے تھے۔اس کے بعد گاندھی نگر میں جب دونوں گروہ پانی بھرنے کے لئے آمنے سامنے آئے تو ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور چند گھنٹوں میں صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور صورتحال پر قابو پایا؛ لیکن صبح سویرے ایک گروپ نے (جس کو مبینہ طور پر چند کھوٹے سکوں کے عوض میں خرید کر بیرون شہر سے لایا گیا تھا) مکانات پر سنگ باری کی۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور فائرنگ کی۔ اس واقعہ میں 62 سال کے ایک شخض اور 17 سال کے ایک طالب علم کی موت ہو گئی ہے۔ دونوں کے لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر لاش متاثرہ خاندانوں کو سونپی جا چکی ہیں۔فی الحال علاقہ میں انٹرنیٹ خدمات بند ہیں اور پولیس صورتحال پر نظر ر کھے ہوئی ہے۔
مسلمانوں کا کہنا ہے کہ فساد کی کوشش کئی دنوں سے کی جارہی تھی؛لیکن مسلمانوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی کوششوں کو ناکام بنائے ہوئے تھے بالآخر ان کی فرقہ وارانہ کوشش کامباب ہوگئی۔ اورنگ آباد ٹائمز کے مطابق شرپسندوں نے گھروں میں گھس کر شرانگیزی کو انجام دیا اور کمزور ا ور نہتے لوگوں کو زدو کوب کیا، تاہم مزید صبر و تحمل اور افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ پولیس نے اس معاملے کی معلومات ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر تشدد روکنے کے لئے لاٹھی چارج کی، پلاسٹک کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا؛لیکن شرانگیزوں کی طرف سے پولیس ٹیم پر بھی حملہ کردیا گیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے شرانگیزوں کا تصادم پولیس اہلکار سے ہونے لگا اس واقعہ میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ انتظامیہ کے مطابق سنیچر کی صبح ساڑھے چار بجے سے شہر کے گاندھی نگر، موتی کارنجہ، شاہ گنج اور راجہ بازار علاقے میں سنگ باری کے واقعات پیش آئے ہیں۔پولیس کے مطابق ہفتہ کو صبح دونوں اطراف میں سنگ باری ہوئی۔ ا ور شرانگیزوں کو دھاردار ہتھیاروں سے لیس بھی دیکھا گیا۔اس دوران شر پسندوں نے کم از کم دو درجن سے زیادہ گاڑیوں کو آگ کے حوالے بھی کر د یا۔
انتظامیہ کے مطابق شاہ گنج کے چمن احاطے میں واقع دکانیں جل کر راکھ ہو گئی ہیں اور اس واقعہ کے بعد سے شہر میں پولیس گشت بڑھا دی گئی ہے،تاہم صورتحال کنٹرول میں ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ دفعہ 144 نافذ ہے، ایسے میں لوگ سڑکوں پر جمع ہوکر نہ نکلیں۔ اگر پولیس کو ایسے لوگ نظر آئیں گے تو ان پر سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔